کم فہمی
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - ناسمجھی، بیوقوفی۔ "معمولی سوجھ بوجھ کا آدمی بھی اس قدر کم فہمی کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔" ( ١٩٩٠ء، نگار، کراچی، جولائی، ١٦ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ صفت 'کم' کے بعد عربی سے ماخوذ اسم 'فہم' بطور لاحقۂ فاعلی لگا کر اس کے بعد 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب بنا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٩٠ء کو"نگار" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ناسمجھی، بیوقوفی۔ "معمولی سوجھ بوجھ کا آدمی بھی اس قدر کم فہمی کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔" ( ١٩٩٠ء، نگار، کراچی، جولائی، ١٦ )
جنس: مؤنث